دیکھ کر بیل سے دو انچ جسامت کم کم
لوگ دیتے ہیں ڈنر کی اُسے دعوت کم کم

کیا خبر کیوں میرے ہر فعل میں در آتا ہے
یوں تو ابلیس سے ہےیاد سلامت کم کم

زادِ راحت تھی کبھی آنسہ راحت کیا کیا
عقد کے بعد ہے کچھ باعثِ راحت کم کم

بہرِ عشاق ترا بھائی نرا اُسترا ہے
ایسی حجام نے کی ہو گی حجامت کم کم

یہ تو دل والوں سے پوچھو کہ جو اُن پر گزری
تھی قیامت سے بظاہر تیری قامت کم کم

"تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی”
پوری کرتا ہوں محبت کی میں عدت کم کم

جیسے مردوں میں ہے مردانگی بس ایک بٹا دس
ویسے ہی آج کی عورت بھی ہے عورت کم کم

لیڈرِ قوم کے ان قومی بیانوں سے حذر
اِن کی سچائی میں ہوتی ہے صداقت کم کم

جس پہ لگ جائے دفعہ عشق ومحبت والی
ایسے ملزم کی بھی ہوتی ہے ضمانت کم کم

اپنے سسرال سے یہ مجھ کو گلہ کرنا تھا
اس کی رحمت تو ہے میرے لئے رحمت کم کم

زندگی بھر کے لئے پڑ گئی میرے پلے
جس سے ملنے کی بھی ملتی تھی اجازت کم کم

عقد سے پہلے تو ہم آپ بھی لنگوٹیئے تھے
اب خبررکھتے ہیں اک دوجے کی بابت کم کم

مجھ کو آئینہ دکھا دیتے ہیں ظالم اُلٹا
اس لئے اوروں کو کرتا ہوں نصیحت کم کم

رو میں جو کچھ بھی چلا آئے ، روا لگتا ہے
اب ذرا فرد میں لگتی ہے عدالت کم کم

حُسن والوں کی سیکیورٹی ہوئی ٹائٹ جب سے
یار لوگوں کو ہے توفیقِ محبت کم کم

جیسا منہ ویسی چپیڑیں ہیں چنانچہ اب کے
طنز شعروں میں زیادہ ہے ظرافت کم کم

Advertisements