(یومِ مئی کے حوالے سے ایک نظم)

تھک گئے ہیں کچھ مسافرزندگی کرتے ہوئے
زندگی کے نام پر جیتے ہوئے، مرتے ہوئے
وقت کی چونگی پہ یوں محصولِ جاں بھرتے ہوئے

ہر طرف محنت کشوں کا غلغلہ تو ہے بہت
دن منانا ہے سو اِن کا تذکرہ تو ہے بہت
زندگی اِن کی ہنوز اِک مسئلہ تو ہے بہت

وقت کی تحریرہے اِن کے پسینے سے جلی
ارتقا کی فیکٹری اِن کی مشقت سے چلی
ان کی محنت تھی کہ حرفت اس قدر پھولی پھلی

اس قدر ہر دور کی صورت گری میں کھو گئے
اپنے خدو خال گردِ مفلسی میں کھو گئے
سرخوشی سب کی بنے ،خود بےکسی میں کھو گئے

بندہء مزدور کیوں دادِ وفا پاتا نہیں
جیسی محنت کرتا ہے ویسی جزا پاتا نہیں
آئینہ اِن سے نظر بھی اب ملا پاتا نہیں

وقت ہے کہ درد کے متوالوں کا پہیہ چلے
زندگی کے سارے خستہ حالوں کا پہیہ چلے
اب ذرا پہیہ چلانے والوں کا پہیہ چلے

Advertisements