وقوعہ لُٹنے کا اک صاحبِ جمال سے ہے
مگر گلہ مجھے سارے ہی خانیوال سے ہے

ہر ایرے غیرے کی مس کال سے نہ دل دھڑکا
یہ سرخوشی تو کسی خاص مس کی کال سے ہے

وہ اپنی ذات کے لیچڑ پنے کو بھی دیکھے
گلہ گزار جو ہر آئینے کے بال سے ہے

پڑوس سے جو مرے گھر میں کود آیا تھا
مآلِ لنچ اُس مرغِ باکمال سے ہے

پرابلم تو تجرد میں بھی رہے ہیں بہت
مگر خراب سوا زوجہ کے وبال سے ہے

یہ تیری والی کا مجھ پر دھیان فرمانا
مرے عروج سے ہے یا ترے زوال سے ہے

نجانے پھینکا تھا کس میم نے یہ لنڈے میں
لنگوٹ میرا خدا جانے کس کی شال سے ہے

تمھارے کوچے میں جتنی بھی ہاؤ ہو ہے صنم!
تمھارے ابے کی بے وجہ قیل و قال سے ہے

وہ ہم سے ملتے ہیں ہر آئے دن سکائپ پر
طمانیت اُنہیں اس طور کے وصال سے ہے

گدھوں سے فیض نہیں پایا ہوٹلنگ پر بھی
کہ ربط میرے بجٹ کا تو ساگ و دال سے ہے

ہوا کرے یہیں تقدیر کا لکھا کندہ
کہ سب کا واسطہ اب فیس بک کی وال سے ہے

غضب غضب کہ زمانے میں شیر کہلایا
گدھے کا دھوکہ مجھے جس کی چال ڈھال سے ہے

فدا سو جاں سے ہوں مس پنکی کی اداؤں پر
نہ سوہنی سے ہے مطلب نہ ماہیوال سے ہے

نہ ہونے دیتا کبھی مجھ کو اپنا کینڈیڈیٹ
جگہ یہ خالی رقیبوں کے انتقال سے ہے

عبث توقع مجھے پچھلے برسوں سے تھی ظفر
"بہت اُمید مجھے آنے والے سال سے ہے”

Advertisements