تو مزل تو صمد خداوندا
تو قوی تو احد خداوندا

ذات تیری ہے لم یلد،بے شک
بالیقیں لم یولد خداوندا

تو ہی پیش از ازل مرے آقا
تو ہی بعد از ابد خداوندا

خام میں اتنے ارتقاء پر بھی
تو مکمل خرد خداوندا

تو ہی میری حقیقتوں کا شناس
خود سے میں نابلد خداوندا

سب کو کشکول بھر کے دیتا ہے
از مہد تا لحد خداوندا

بھر دے اپنی رضا کے پھولوں سے
زندگی کی سبد خداوندا

بڑھ گئے دشمنانِ دیں کے بہت
آج قد و عدد خداوندا

لشکرِ ابرہہ ہوا درپے
ابابیلِ مدد خداوندا

Advertisements