اگر متاثرِ افواہِ بم نہیں ہوئے تو؟
رقیب کوچہءجاناں میں کم نہیں ہوئے تو؟

وہ یونیورسٹی میں کیا آم لینے آئے ہیں
جو حسن و عشق میں قول و قسم نہیں ہوئے تو

خدا ہی جانے کرے گی وہ کس کا خانہ خراب
نصیب سے ہمیں اُس کے خصم نہیں ہوئے تو

ہمارے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے خدا حافظ
جو ویلڈر کہیں ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

تمام سسروں میں تقسیم کس طرح ہوں گے
دلوں کے ولولے دو اک ڈرم نہیں ہوئے تو

تمام خلقِ خدا کو قرار آئے گا
ہمیں فساد کی جڑ ہیں، جو ہم نہیں ہئے تو

مہیا ہو گا کہاں شغلِ سرپھٹول ہمیں
گُروِ دیر یا شیخِ حرم نہیں ہوئے تو

رہی نہ تیل کی فوں فاں تو تم بھی دیکھو گے
عرب کے لوگ بھی سوئے عجم نہیں ہوئے تو

میں اُن کے واسطے کیا کیٹ واک کرتا پھروں
وہ ہم سفر ہی اگر ہم قدم نہیں ہوئے تو

بڑھیں گے بال جو شاعر بنے ترے عاشق
کٹیں گی قلمیں جو اہلِ قلم نہیں ہوئے تو

رہیں گے سب کی نگاہوں میں پھنے خان ظفر
اگر پھسل کے کہیں پر ”دھڑم“ نہیں ہوئے تو

Advertisements