شب محلے والوں نے جس پر ہاؤ ہو کی تھی
واردات وہ شائد ایک خوش گلو کی تھی

آج بیٹے کو کیسے زن مرید کہتی ہیں
آرزو بھلا کس کو چاند سی بہو کی تھی

کھائے جاتی تھی بیگم یوں دماغ میرا کیوں؟
کس قدر میں چارہ تھا، کس قدر وہ بھوکی تھی

اپنی اپنی کینونس پرجائے وصل جانا تھا
میری یہ دوٹانگیں تھیں، آپ کی سوزوکی تھی

شعر جب سنایا تھا رام ہو گئی تھی وہ
کام میرا نکلا تھا شاعری کسو کی تھی

"میم شین” والوں کا سروے ہی بتلائے گا
جس قدر بھی آبادی شہرِ آرزو کی ہے

کارپٹ بھی میرا تھا پاندان بھی میرا
پان مانگ کر کھایا تھا ور پیک تھوکی تھی

میں نے فقرہ مارا تھا اُس نے چانٹا مارا تھا
فیصلہ نہ ہو پایا کس کی بدسلوکی تھی

آرزو چنبیلی کی تھی اور پائی ہے گوبھی
کون ہے نصیبوں میں کس کی جستجو کی تھی

جس سے بچے ڈرتے تھے بہرِ عقد ماں اُس کو
پارلر میں لائی تھی اور خوبرو کی تھی

Advertisements