پہچان کی دہلیز یہ لایا تھا اور بس
آئینے نے طلسم دکھایا تھا اور بس

شب کے خلاف سارا شہر اُٹھ گھڑا ہوا
میں نے تو اک چراغ جلایا تھا اور بس

جس کی طلب میں زندگی ساری خراب کی
اُس نے مجھے بھکاری ہی پایا تھا اور بس

پھر تو مجھے سمندر بھی پایاب ہی لگے
ایک ہی ندی نے مجھ کو ڈرایا تھا اور بس

کاٹی ہے ساری عمر ہی قیدِ حیات میں
اپنے بدن کو زنداں بنایا تھا اور بس

پھر یوں ہوا کہ اُن کا سفر نہ کبھی تھکا
چڑیوں کو اک شجر سے اُڑایا تھا اور بس

میں اُس سے آگے آپ ہی بڑھتا چلا گیا
اُس ناخدا نے چلنا سکھایا تھا اور بس

پھر اُس کو بھولنے کا سلیقہ نہ آ سکا
کہنے کو کہہ دیا تھا پرایا تھا اور بس

جیون میں تُو تھا مجھ کو نشاں زد کئے ہوئے
میں کیا تھا کچھ نہ تھا تیرا سایہ تھا اور بس

تنہائیوں کی قبر میں اُترا ہوا تھا میں
اک یاد کے دیے کو بجھایا تھا اور بس

Advertisements