شہر بھر میں کیوں اُس کی ہم نے جستجو کی تھی
وہ ستمگر کہ جس کی ہر ادا عدو کی تھی

دل ہی بجھ گیا تھا پھر دیکھتا اُسے میں کیا
اُس نے اپنی خوشبو تو میرے چار سو کی تھی

کیسا زخم تھا کہ جو مندمل نہ ہو پایا
موت کے ہی ٹانکے سے زندگی رفو کی تھی

وہ جو دستِ ساقی میں تھیں، وہ ساری شمعیں تھیں
وہ جو ہر طرف تھی ،وہ روشنی سبو کی تھی

سب شجر گلستاں کے جھاڑ بیٹھے تھے دامن
ہائے کیسے موسم میں آرزونمو کی تھی

یوں خبر تودلدل کی مل گئی تھی رستے میں
ہم نہ لوٹ کر آئے بات آبرو کی تھی

کیسا دورِ جانکاری تھا کہ جس پر نازاں تھے
تھا وجدان بھی تشنہ، آگہی بھی بھوکی تھی

دیکھئے نصیبوں کو، چھوڑئے ان باتوں کو
کس کو ہم نے پایا ہے کس کی آرزو کی تھی

ذعمِ ضبط تھا ہم کوسو نظر نہیں آئی
جو پلک سے الجھی تھی بوند اک لہو کی تھی

آج شام محفل میں جانے کتنے لوگوں سے
ہم نے بات کی تھی یا خود سے گفتگو کی تھی

وصل کی کوئی خوشبو میں پہن کر نہ آیا
”حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی“

آج کیسی یادوں کی بارشوں میں بھیگا ہوں
آج کیسا غوغا ہے بات تو کبھو کی تھی

Advertisements