شادابیاں بلیک میں کس طور پائے گل
بادِ صبا سے مل کے ہی کچھ گل کھلائے گل

فیشن تو اس کے دیکھئے فصلِ بہار میں
ہر رنگ ہر ادا کے ملیں گے قبائے گل

قائل نہیں ہیں باغباں ”لندن پلان“ کے
کیوں فیصلہ گلوں کا کریں ماورائے گل

امریکی ایڈز کے لئے بکتے نہیں کبھی
جب باغباں کے پاس ہو عنقا دوائے گل

اب اس کی لوڈ شیڈنگ کا خطرہ نہیں ذرا
پھیلی ہوئی ہے ہرسو چمن میں ضیائے گل

وہ تو چمن میں غالباً ایجینٹ ہی نہیں
ورنہ مجھے یقین ہے بیمہ کرائے گل

گل ٹھیکیدار لے گئے گلقند کے لئے
اور عندلیب کرتے رہے ہائے ہائے گل

پوری ہوئی نہ مرغِ چمن کی کبھی ٹھرک
کانٹوں کی صحبتوں میں رہی ہر ادائے گل

گوبھی کو بھی تو پھول کہا تونے ظالما!
بینگن کو کیسے کہتا نہیں ہے تو ہائے گل

رانجھا ہی تھا جو ہیر پہ قربان ہو گیا
ہوتے نہیں ہیں بھنورے کبھی مبتلائے گل

اس کی مہک پہ کوئی بھی سنسر نہیں ظفر
سب کے لئے ہے اور مکمل، سخائے گل

Advertisements