ظاہر ہے جس کسی پر حُسنِ خیال تیرا
کرتا ہے تذکرہ کیا ہو کرنہال تیرا

ارض و سماء میں چمکے عکسِ وصال تیرا
ہرسو دھنک بکھیرے رنگِ جمال تیرا

دنیا کا کوئی گوشہ تجھ سے کہاں مبرا
دھرتی بھی تیرے تابع، جل میں بھی جال تیرا

تیری ثنا سے یارب خاموشیاں بھی گونجیں
مصروفِ حمد ہے ہر شیریں مقال تیرا

ادراک عظمتوں کا کب ہو سکا کسی پر
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا

جو بھی کرم ہے تیرا سو ہے عدیم یارب
جو بھی ہے فیض ہم پر سو بے مثال تیرا

کیسا زمانہ آیا ہم نے جہاں میں پایا
ہر ایک نام لیوا غم سے نڈھال تیرا

کشمیر و حلب پھر سے خوں میں نہا رہے ہیں
گلگوں سا ہو چکا ہے نجم و ہلال تیرا

ہم آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں ہرگز
اب رحم چاہتے ہیں اے ذوالجلال تیرا

Advertisements