رقیب ہیرو کی طرح تری نظر میں رہا
مرا نصیب ہمیشہ اگر مگر میں رہا

وہاں وہاں میری شامت بھی اُڑ کے پہنچی ہے
جہاں جہاں میں پدھارا، جدھر جدھر میں رہا

پناما میں ترا بزنس، فلیٹ لندن میں
مگر نجات دھندہ کہیں قطر میں رہا

رہے ہیں زوجہءاوّل سے ناکوں ناک مگر
اِک اور عقد کا سودا ہمیشہ سر میں رہا

یہی ہے آج کے شوہر کا نامہء اعمال
خدا کے ڈر میں نہیں بیوی کے اثر میں رہا

چلا تو میری ہی تشریف پر لگا مُڑ کر
اِک ایسا تیر مرے ترکشِ ہنر میں رہا

کسی غریب کا جینا بھی کوئی جینا ہے
تمام عمر کوئی رکشے کے سفر میں رہا

یہ دور صدق و دیانت کا دورہے ہی نہیں
سمجھ نہ پایا کبھی بھی، نرا ڈفر میں رہا

کسی کے پیار کا جب تجزیہ کیا گیا ہے
ظفر عجیب سا مرچیلا پن شکر میں رہا

Advertisements