لہرا کے ایک ٹھمکا لگایا تھا اور بس
اُس نے تعارف اپنا کرایا تھا اور بس

بیوی سے پوچھئے کبھی شوہر کی حیثیت
اک جانور تھا جس کو سدھایا تھا اور بس

منہ دھو کے یونہی غلطی سے باہر نکل پڑے
محفل سے عاشقوں کا صفایا تھا اور بس

اپنی حماقتوں کی خبر مدتوں چلی
اہلِ انظر سے سینگ لڑایا تھا اور بس

جب بھی محبتوں کا کیا ہم نے تجزیہ
اِن کو تجاوذات ہی پایا تھا اور بس

کاہے کو میرا گڈا بناتا ہے ظالما!
میں نے تو آئینہ ہی دکھایا تھا اور بس

یوں بھی جواب ترکی بہ ترکی دیا مجھے
مجھ کو مرا ہی شعر سُنایا تھا اور بس

کچھ بھی تو لیڈروں نے الیکشن میں نہ کیا
ہم کو شریکِ جرم بنایا تھا اور بس

میں داڑھ لے کے پاس کسی کے نہیں گیا
جو آ گیا تھا اس کو چبایا تھا اور بس

اُس شوخ سے وصال کو اِتنا بہت نہ تھا
کھیسے میں میٹرو کا کرایہ تھا اور بس

ویسے اُنہیں پسند تو فیض و فراز تھے
پر تائی کے نصیب میں تایا تھا اور بس

بیگم کو لگ گئے تھے کمانڈو کے دست و پے
پنکی کا نام ہونٹوں پہ آیا تھا اور بس

میں کتنی دیر سے تھا کولمبس بنا ہوا
اخبار تھی، خبر کا بقایا تھا اور بس

اب کیا کہیں کہ بٹوہ ہمارا کدھر گیا
اک یار نے گلے سے لگایا تھا اور بس

جب بھوت چودھراہٹ کا اُن پر سوار تھا
ہم نے بھی کیانی بن کر دکھایا تھا ا ور بس

Advertisements