ہر کام کو میں صورتِ بیکاری کروں گا
نوکر ہوں تو پھر شغل بھی سرکاری کروں گا

رکھوں گا ترقی کی طرف پہلا قدم میں
جس روز طبیعت کو میں درباری کروں گا

رنگوں کا تفاوت بھی قیانے سے ہے ظاہر
رنگین طبیعت ہوں ،سیہ کاری کروں گا

اس وہم سے باہر نہیں نکلے کبھی سسرے
میں جب بھی کروں گا کوئی فنکاری کروں گا

دوں گا میں اڑنگی بھی اُنہیں داﺅ لگا کر
پھر جا کے بڑے پیار سے غمخواری کروں گا

ہمسائے نہ سمجھے مجھے ماں جائے تو یارو!
شب بارہ بجے میں بھی گلوکاری کروں گا

دل بیوی کے دبکے سے دہل جائے گا تب بھی
کرنے کو تو مونچھوں کو بھی تلواری کروں گا

کیوں درجہء اوّل کا ملے پھرکوئی لیڈر
جب چار سو بیسوں کی طرفداری کروں گا

کر لوں نہ تجرد میں ہی کیوں اس کی پریکٹس
جب شادی رچا کر بھی میں گھرداری کروں گا

جب حُسن بنائے گا توبن جاﺅں گا الو
یہ تیرا گماں ہے کہ سمجھداری کروں گا

کچھ اور تو آتا نہیں فدوی کو جہاں میں
سب کی طرح پاﺅں ہی کوئی بھاری کروں گا

Advertisements