یادوں سے نمٹنے کی یوں تیاری کروں گا
میں اُس کو بھلانے کی اداکاری کروں گا

کچھ بن نہ پڑے گا جو محبت کے سفر میں
دوراہے سے رستے کی خریداری کروں گا

تم اس کا بنا لینا بڑے شوق سے اینڈھن
ہے کام مرا سو میں شجر کاری کروں گا

جب چوٹ لگاﺅں گا کسی یاد کی دل کو
امید ہے خود اپنی بھی غمخواری کروں گا

تم آج جہاں سوختہ تن، تشنہ دہن ہو
اک نہر اسی دشت سے میں جاری کروں گا

یہ دل ہے کسی اور کا مقبوضہ علاقہ
کرنے کو تو دعویِٰ عملداری کروں گا

منزل پہ پہنچ کر بھی سکوں مل نہ سکے گا
اک اگلی مسافت کی میں تیاری کروں گا

آواز نہ بھر پایا اگر جامِ نوا میں
میں سوزِ خموشی میں عزاداری کروں گا

وہ بات کھلے عام جو کرنے کی نہیں ہے
محفل میں جب آئے گی مری باری، کروں گا

Advertisements