(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی

Advertisements