یہ کس نے کہا آپ سے فنکاری کروں گا
دلدار بنیں گے تو میں دلداری کروں گا

لیچڑ تو بہرحال اُسے کہنا پڑے گا
میں گرچہ بہت پاسِ وضعداری کروں گا

جو ذات مرے باس کی اُس ذات کا میں بھی
خود کو کبھی بھٹی کبھی انصاری کروں گا

میں عقد کروں گا تو یہ غلطی میری ہو گی
معصوم سی ناری کو میں تاتاری کروں گا

انگلش تو مٹن کی طرح وارے میں نہیں ہے
پنجابی و اُردو کی ہی ترکاری کروں گا

اک پینڈو نے محبوبہ سے یہ وعدہ کیا ہے
بھینسوں کی طرح تیری نگہداری کروں گا

روڑے نہیں اٹکاتا فقط والدِ اڑیل
تیرے لئے دنیا سے بھی منہ ماری کروں گا

ہر بات پہ لگ جاتے ہیں متھے میرے ظالم
ہر بات رقیبوں سے میں تکراری کروں گا

لالا تو نہیں ہوں کہ بڑھوں چائے سے آگے
کب اپنے نشے کو کبھی نسواری کروں گا

اشعار کہے جاﺅں گا مصرعِ طرح پر
اوروں کی زمینوں پہ زمینداری کروں گا

Advertisements