یادوں سے دل لگائے کئی سال ہو گئے
پانی میں گھر بنائے کئی سال ہو گئے

سیاحتِ جہاں سے نہ لوٹے تمام عمر
اپنے ہی گھر میں آئےکئی سال ہو گئے

اُس راستے میں کچھ بھی نہیں جز غبارِ شب
جس پر نظر جمائے کئی سال ہو گئے

کیاہمسفر نے ملنا ہے بعد از سفر مجھے
تنہاسفر میں آئےکئی سال ہو گئے

آیا ستم شعار نہ یادوں سے ماورا
آنکھوں میں خواب لائے کئی سال ہو گئے

ایسے عمل کا کوئی تو ردِ عمل بھی ہو
دیوار سے لگائے کئی سال ہو گئے

کیسا طلسمِ سخت ہے کہ ٹوٹتا نہیں
اِن دائروں میں آئےکئی سال ہو گئے

جو پھوٹتا رہا ہے تمھارے وجود سے
اُس نور میں نہائے کئی سال ہو گئے

جس نے مرے نقوش بنائے تھے دھوپ سے
بھر نہ سکا وہ سائےکئی سال ہو گئے

رنگ لا سکی نہ اپنے گماں کی مصوری
منظر ہمیں بنائے کئی سال ہو گئے

جو کچھ بھی پایا ہم نے اُسے کھو دیا ظفر
اِس مشغلے میں ہائے کئی سال ہو گئے

Advertisements