تیرے پپا تھے کسی حُسنِ دگر کے ساتھی
جیسے ہم ماموں رہے تیری مدر کے ساتھی

ایسی منزل پہ بھی لے آتی ہے شامت اکثر
جس جگہ کام نہیں آتے قطر کے ساتھی

ان کا ماٹو ہے فقط "کھاؤ پیو اور کھسکو”
ہمسفر بنتے نہیں شیر و شکر کے ساتھی

وہ چھڑے چھانٹ ہیں اور فدوی "شدہ” ہے کب سے
ہائے ملتے ہیں کہاں مجھ سے کدھر کے ساتھی

جس طرح خاک میں رُل کر بھی ہے زندہ بھٹو
ویسے ہی زندہ ہے تجھ پر کوئی مر کے ساتھی

یوں تو چٹکی نہ بھرو میری تمناؤں کو
مجھ کو ٹا ٹا نہ کرو پار اُتر کے ساتھی

ہم تو ہیں سب کی نظر میں وہی نتھو خیرے
شیکسپئر بن گئے سب اہلِ ہنر کے ساتھی

نیک کاموں سے الرجی اُنہیں ہو جاتی ہے
جادہء خیر میں چلتے نہیں شر کے ساتھی

گھر کی مرغی بھی لگے دال برابر اُن کو
آئے ہیں سبزچراہگاہوں کو چر کے ساتھی

سیدھی راہوں میں بھی زگ زیگ سے پڑ جائیں گے
کچھ ہونق بھی اگر ہوں گے سفر کے ساتھی

آج میک اپ نہ کرو اور رقیبوں سے ملو
یوں تو ملتے ہو بہت سج کے سنور کے ساتھی!

آپ کے ناز و ادا سے تو یہی لگتا ہے
آپ بن جائیں گے اک روز ظفر کے ساتھی

Advertisements