غزلوں میں تنگنائے کئی سال ہو گئے
اِس قبض میں تو ہائے کئی سال ہو گئے

غافل پڑے ہوئے ہیں مسلمانوں کی طرح
گویا کہ ہڑبڑائے کئی سال ہو گئے

اس سے بڑا ثبوت ہو کیا بے وفائی کا
چائے مجھے پلائے کئی سال ہو گئے

کیسی خوشی تھی جس کی بنا پر وہ جامے میں
پھولے نہیں سمائے کئی سال ہو گئے

اہلِ جہاں سے ٹکریں بھی لاتیں بھی کھائی ہیں
کھائے سری نہ پائے کئی سال ہو گئے

حرفِ درست لکھنے کی توفیق نہ ہوئی
حرفِ غلط مٹائے کئی سال ہو گئے

افکار کی جوﺅں سے ہے کدو بھرا ہوا
ویسے تو سر کھجائے کئی سال ہو گئے

عزت نہ ہو سکی ہے مری مدتیں ہوئیں
کیڑے کو کلبلائے کئی سال ہو گئے

فیشن زدہ جمال دکھاتے ہیں روز و شب
انسانیت دکھائے کئی سال ہو گئے

ہلکا ہوا جو کھیسا تو دل سے اُتر گئے
اپنے ہوئے پرائے کئی سال ہو گئے

ایمان تو طہارت پہ ہم کو بھی ہے مگر
ہاں جاڑے میں نہائے کئی سال ہو گئے

Advertisements