ٹرمپ بن کر ہی رہ نہ جایا کر
کچھ تو انسانیت دکھایا کر

جب وہ اپنی وفا کا ذکر کریں
مسکرانے سے باز آیا کر

پاسِ ناموسِ مونچھ رکھ ظالم
پیشِ بیگم نہ دُم ہلایا کر

توند پھٹ جائے گی دہماکے سے
اس قدر ’’انہے وا‘‘ نہ کھایا کر

ڈھیٹ پن بھی خصوصیت ہی سہی
شرم آئے تو شرم کھایا کر

کیوں ہمیشہ ہمیں پہ گرتا ہے
تو بھی ڈھیلا کبھی کرایہ کر

عشق کو پیچ و تاب میں ہی رکھ
کبھی غمزہ کبھی کنایہ کر

چند پھونکوں سے پھولنے والی
اپنے جامے میں ہی سمایا کر

اگلا دیوان بھی سنائے گا
شعر یہ سوچ کر سنایا کر

جزوِ تعلیم و تربیت ہے ظفر
ہاتھ گدی پہ دو لگایا کر

Advertisements