شاعر کو بلبلائے کئی سال ہو گئے
تازہ غزل سنائے کئی سال ہو گئے

کیسے نہ اپنی آئی پہ آیا کرے کوئی
گچی پہ دو ٹکائے کئی سال ہو گئے

مہنگائی اس قدر ہے کہ ہمت نہیں رہی
بیف و مٹن تو کھائے کئی سال ہو گئے

ہیں یار اس لئے بھی مرے یار اب تلک
یاروں کو آزمائے کئی سال ہو گئے

بیم و رجا کی ایک عجب کیفیت میں ہے
عاشق کو بددعائے کئی سال ہو گئے

ثابت ہوا کہ خالص نہیں کچھ بھی جہان میں
مرنے کو زہر کھائے کئی سال ہو گئے

چیں بہ جبیں پڑوسی تھے شوقِ ریاض پر
سو ہم کو ہنہنائے کئی سال ہو گئے

اب واپسی کا ذکر بھی کرتے نہیں ہیں وہ
آئے تھے بِن بلائے کئی سال ہو گئے

لیلیٰ سے کہہ نہ پائے کوئی حرفِ مدعا
مجنوں میاں ہیں شائے کئی سال ہو گئے

اُس نے بھی میرے بعد اڑنگی نہ دی کبھی
مجھ کو بھی تلملائے کئی سال ہو گئے

بیگم کا کرفیو ہے بڑا سخت کرفیو
پھولوں پہ بھنبھنائے کئی سال ہو گئے

تقسیمِ ابتسام ڈیو ہو گئی ظفر
یاروں کو گدگدائے کئی سال ہو گئے

Advertisements