اگرچہ خود کو بہت روغنِ خرد کئے جائیں
حماقتیں بھی مگر پہلے سے وہ ”وَدھ“ کئے جائیں

یہ درسگاہِ زمانہ کے طالبانِ علم و ہنر
یہ سیکھتے ہیں کہ بونوں میں کیسے قد کئے جائیں

گو عملی طور پہ اس کو فلرٹ سمجھا کریں
ادا زباں سے محبت بہ زورِ شد کئے جائیں

نہیں ہے ان سا کوئی خیر خواہِ قوم و وطن
مگر جو موقع کرپشن کا ہو تو حد کئے جائیں

یہ دِل یہ اُلّو کا پٹھا بھی مشورہ دے عجب
ہم اپنے دشمنِ جاں کی ہی کیوں مدد کئے جائیں

یہ کیسے نیوز کے چینل پڑے ہوئے ہیں گلے
بنامِ آگہی جو سب کو نابلد کئے جائیں

ہزار وقت نے پچھتاوے سے نوازا اُنہیں
جو کام کرتے رہے ہیں وہی چغد کئے جائیں

اسامی بانگ بھی دینے کی ہو تو ہٹتے نہیں
فقط وہ اپنے ہی چوزوں کو نامزد کئے جائیں

اک ابتذال ہے سو اُن کا فرضِ عین ہوا
اِک احتجاج ہے سو ہم یہ فعلِ بد کئے جائیں

وہ اپنی ٹانگ ہمیں کھینچنے جو دیتے نہیں
تو کیوں نہ اُن سے بھلا عمر بھر حسد کئے جائیں

ظفر ”ترقی پذیری“ کی دم لگائے رہیں
ترقی کا یہ سفر ہے سو تا ابد کئے جائیں

Advertisements