یہ حسن والوں کے میلے یہ پارسائی میاں
ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں ہاتھا پائی میاں

کبھی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا
دکھائی دیتی ہے اوروں میں ہر بُرائی میاں

زنانہ وار کئے جا رہا ہے ظلم و ستم
ہمارے دل پہ کوئی کرتا ہے کڑھائی میاں

یہ وقت نے ہمیں کس دوڑ پر لگایا ہے
اڑنگی دینے لگا میرا اپنا بھائی میاں

کبھی کبھی کوئی لیڈر کرپٹ ہوتا تھا
مرض یہ بن گیا اب کے تو اک وبائی میاں

یہ جون ایلیا سے بن کے رہ گئے ہو کیوں؟
تمھارے شہر میں کیا قحط ہے غذائی میاں

خرابِ عشق کے پلے پڑے نہ عقل کی بات
اگرچہ ٹانٹ پہ اکثر چپت لگائی میاں

ہمارے کام کی ہو تو یقین کیوں نہ کریں
ہزار چھوڑی گئی ہو کوئی ہوائی میاں

جس عشق نے میاں مجنوں کو کر دیا ہے امر
اُسی پہ ہم نے کمائی ہے جگ ہنسائی میاں

کچھ اس ادا سے طلب کی ہے فیس ظالم نے
وہ ڈاکٹر مجھے لگنے لگا قصائی میاں

کنکٹ ہوں تو ملاقات ہو ہی جاتی ہے
ہمارا عشق ہے تھوڑا سا وائی فائی میاں

فقط ہے نعروں کا حصہ یہ خود انحصاری
ازل سے ہاتھوں میں ہے کاسہءگدائی میاں

Advertisements