یہ حسن والوں کے میلے یہ پارسائی میاں
ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں ہاتھا پائی میاں

کبھی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا
دکھائی دیتی ہے اوروں میں ہر بُرائی میاں

زنانہ وار کئے جا رہا ہے ظلم و ستم
ہمارے دل پہ کوئی کرتا ہے کڑھائی میاں

یہ وقت نے ہمیں کس دوڑ پر لگایا ہے
اڑنگی دینے لگا میرا اپنا بھائی میاں

مرے وطن میں یہ کیسا نظام ہے، توبہ!
مروڑتا ہے غریبوں کی ہی کلائی میاں

وہ تیری بات پہ کیوں چوں چراں کیا نہ کرے
سمجھ لیا ہے کیا بالکل ہی گھر جوائی میاں

کبھی کبھی کوئی لیڈر کرپٹ ہوتا تھا
مرض یہ بن گیا اب کے تو اک وبائی میاں

—-ق—-
پنامہ لیکس کی کالک ہے تیرے چہرے پر
دکھا رہا ہے کسے شانِ پارسائی میاں

تُو ساری قوم کی آنکھوں میں ڈال دے مرچیں
اب اس قدر بھی نہیں جھوٹ کی خدائی میاں
——
یہ جون ایلیا سے بن کے رہ گئے ہو کیوں؟
تمھارے شہر میں کیا قحط ہے غذائی میاں

میں کوہکن تو نہ تھا پر پئے دفینہء دل
کسی کی ذات میں کی ہے بہت کھدائی میاں

رہِ حیات میں ہر رنگ کی شرارت ہے
کہیں کنواں کہیں دلدل کہیں پہ کھائی میاں

خرابِ عشق کے پلے پڑے نہ عقل کی بات
اگرچہ ٹانٹ پہ اکثر چپت لگائی میاں

ہمارے کام کی ہو تو یقین کیوں نہ کریں
ہزار چھوڑی گئی ہو کوئی ہوائی میاں

یہ لیڈروں کی کرپشن سے جنگ کرنا بھی
عوام الناس کو لگتی ہے بھل صفائی میاں

وہ آج چونک کے بولے ہیں کچھ کہا مجھ سے
تمام عمر میں دیتا رہا دہائی میں

جس عشق نے میاں مجنوں کو کر دیا ہے امر
اُسی پہ ہم نے کمائی ہے جگ ہنسائی میاں

کچھ اس ادا سے طلب کی ہے فیس ظالم نے
وہ ڈاکٹر مجھے لگنے لگا قصائی میاں

یہ پے سلپ میں جو ہے سیلری درست نہیں
شمار کرنی تھی اوپر کی بھی کمائی میاں

کنکٹ ہوں تو ملاقات ہو ہی جاتی ہے
ہمارا عشق ہے تھوڑا سا وائی فائی میاں

فقط ہے نعروں کا حصہ یہ خود انحصاری
ازل سے ہاتھوں میں ہے کاسہءگدائی میاں

Advertisements