رہے نہ ظلمتِ شب کی بھی کاروائی میاں
جلیں چراغ دلوں میں جو مصطفائی میاں

اُسی کے ذکر کو وردِ زبان رکھتا ہوں
یہ روزگار ہے میرا یہی کمائی میاں

یہ میرا دل تو ہمکتا ہے بچے کی مانند
وہ کون ہیں جنہیں اُس در کی ہے رسائی میاں

مجھے بھی خواب اُڑا لے چلیں مدینے کو
فضا ہمیشہ وہی سب کو راس آئی میاں

خدا کے رستے پہ اُس نے سکھایا ہے چلنا
اُسی نے سب کے دلوں میں یہ لو لگائی میاں

ہماری منزلِ عرفان اُس کا صدقہ ہو
ہمیں تو چاہیئے بس اُس کی رہنمائی میاں

یہ میری جاں بھی نچھاور اُسی کی حرمت پر
خدا نے جس کے لئے بزمِ جاں سجائی میاں

وہی ہے خامہ وہی عاجزیء فن ہے ظفر
وہی ہوں میں وہی اظہارِ تنگنائی میاں

Advertisements