ذکرِ سرکار سے روح میں اِک عجب تازگی ہو گئی
نعت لکھنے لگا تو عبادت مری شاعری ہو گئی

اُن کے اسمِ مبارک کی برکت سے مجھ میں سکوں گھل گیا
وقت کی شورشیں دب گئیں روح میں آشتی ہو گئی

تذکرہ اُن کا آیا تو نوکِ قلم گل فشاں ہو گیا
ہر رگِ لفظ میں موجزن اک نئی زندگی ہو گئی

اُن کی نسبت ہے کیسے عجب رنگ مجھ کو لگائے ہوئے
اُن کی مدحت کی کاوش میںصیقل مری آگہی ہو گئی

اُن کی افکار نے ایسی شفافیت سے مجھے بھر دیا
عمر بھر کے لئے آئینوں سے مری دوستی ہو گئی

ظلمتِ عصر میں اسوہ ء پاک کا ہاتھ تھاما ظفر
راستے آپ آواز دینے لگے،، روشنی ہو گئی

Advertisements