چل دیا ہے منزلوں کو قافلہ کشمیر کا
رہرﺅں سے بھر گیا ہے راستہ کشمیر کا

یہ گزرتے پل نہیں تاریخ کے صفحات ہیں
خوں سے لکھا جا رہا ہے واقعہ کشمیر کا

ظلم کے لاوے سے جو بھرتے ہی جاتے ہیں اِسے
ایک دن جا لے گا اُن کو دائرہ کشمیر کا

بچہ بچہ ہے لہو کی موج میں آیا ہوا
ساری وادی میں بپا ہے معرکہ کشمیر کا

اب بساطِ دہر پر ہر چال خود اپنی چلیں
اپنے جذبوں سے بنالیں زائچہ کشمیر کا

کوئی بھی چشمہ کسی کہسار سے رکتا نہیں
اپنی سرمستی میں ہے ہر زمزمہ کشمیر کا

کور چشمی ہے زمانے کی وگرنہ دوستو!
مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے مسئلہ کشمیر کا

کاش کھل جائیں سبھی رستے دلوں کے درمیاں
سبز نقشے میں ڈھلے جغرافیہ کشمیر کا

یہ جہاں کے چوہدری تو اندھے بہرے ہیں ظفر
اہلیانِ دل اُٹھا لیں تعزیہ کشمیر کا

Advertisements