سوال اْن سے جب کیا کمال کر کے رہ گئے
جواب میں ہمیں سے وہ سوال کر کے رہ گئے

وہ ریٹ تھے کہ ہوٹلنگ کا شوق ماند پڑ گیا
ہمارے جیسے تو فقط خلال کر کے رہ گئے

جو ناکے پر پولیس کے جوان تھے چٹان تھے
اِنہیں جو مرغ بھی ملا حلال کر کے رہ گئے

چلے گئے تھے گورنمنٹ ہسپتال بھول کر
غریب تھے چنانچہ انتقال کر کے رہ گئے

عبادتیں نہ کر سکے ہیں خانہ ٔ خدا میں بھی
ہم اپنی جوتیوں کی دیکھ بھال کر کے رہ گئے

جنابِ قیس کو خراب ہونا ہی تھا عشق میں
وہ عقد کاہے کو پئے وصال کر کے رہ گئے

جو ڈاکٹر کو دستخط کے واسطے کہا گیا
جناب اپنے پاؤں استعمال کر کے رہ گئے

یوں لیڈرانِ قوم لوٹتے ہیں ملک و قوم کو
لٹیروں ڈاکوؤں کا استحصال کر کے رہ گئے

جو ہم کو ناچ تگنی کا نچاتے آئے ہیں ظفرؔ
ہم اْن کی بزمِ ناز میں دھمال کر کے رہ گئے

Advertisements