گدھے کو شیر سمجھنے سے کون باز کرے
’’جو چاہے آپ کا حْسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘

وہ میڈیا جو سدا سے بلیک میلر ہے
ستم تو یہ ہے وہی غلغلۂ ’’لاز‘‘ کرے

ہماری زوجہ کو میک اَپ کا شوق ہے بے حد
سو اْن کا کام وہی ہے جو رنگساز کرے

جو مسجدوں میں سدا جوتیاں چرانے گیا
کہاں پہ جا کے وہ دستِ دعا دراز کرے

یہ قوم حالیؔ و اقبالؔ سے بھی کیا پائے
کلام جس کا ملے نذرِ صوت و ساز کرے

عوام نام کی اے رینگتی ہوئی مخلوق
خدا تجھے کبھی عزت سے سرفراز کرے

میں چاپلوسی کے فن سے نا آشنا ٹھہرا
کروں وہ کس طرح جو حاجی گل نواز کرے

فدائی بخت میں ہو بوزنہ سدھایا ہوا
تو اپنے حْسن پہ کیونکر نہ کوئی ناز کرے

بہت سے ایسے بھی شاعر ہیں جن کا بیت و سخن
وہی کرے جو سدا کاٹنے پہ پیاز کرے

Advertisements