احمدؔ علوی کے نام پر ذہن میں ازخود ایک ایسے بچے کا تصور ابھرتا ہے جس کی شربتی آنکھوں میں شوخی اور الہڑ پن لشکارے مار رہا ہے۔اُس کے ہاتھوں میں بہت سی پھلجڑیاں ہیں جسے وہ زمانے کی بسیط ظلمت میں لے کر نکلا ہے۔ اُس کی پھلجڑیوں سے رنگ برنگے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔وہ زمانے کے ملگجے اندھیروں میں طرارے بھرتا پھر رہا ہے۔ جہاں جہاں جاتا ہے، گونا گوں قسم کی روشنیوں کے ننھے ننھے ستارے بکھیرتا چلا جاتا ہے۔بہت سے لوگ قلانچیں بھرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔ وہ سب لوگ اُن رنگ برنگی روشنیوں کے ستارے چُن رہے ہیں اور خوشی سے قلقاریاں مار رہے ہیں۔ ہر طرف موج میلہ ہے اور اس موج میلے کا مرکزی کردار ہے احمد علوی۔
احمد علوی نام کا شوخ و شنگ بچہ محض سرمستی اور الہڑ پن سے دوڑتا نہیں پھرتا بلکہ بسا اوقات اُس کے انداز میں شوخی اور شرارت بھی عود کر آتی ہے۔جب کبھی بھی زمانے کے بدصورت اور تاریک چہروں والے بھوتوں پر اُس کی نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی رنگ برنگی روشنیوں والی پھلجڑی سونت کر اُن پر جھپٹ پڑتا ہے۔ بھوت روشنیوں کی یلغار سے خوفزدہ ہو کر اُلٹے قدموں پیچھے پلٹتے ہیں اور دوڑ لگا دیتے ہیں۔بچہ تاریکی کے بھوتوں کو بھاگتا ہوا دیکھتا ہے تو خوشی سے کھلکھلا اُٹھتا ہے ۔ اُس کی مترنم کھلکھلاہٹوں کی لے پر پھلجڑیوں کے رنگ برنگی روشنیوں والے ستارے رقص کرنے لگتے ہیں اور ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ چاند بھی بادلوں کا لحاف ہٹا کر بڑی دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھنے لگتا ہے۔
آپ میری اس خیال آرائی کو محض میری fantasy سمجھ سکتے ہیں لیکن یقین کیجئے کہ میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ وہ ظرافت نگار جو مستقل اپنے چلبلے فن کی شمع جلائے ہوئے ہیں،مستقل اسی طلسمِ ہوشربا کا حصہ ہیں اور احمد علوی اُنہیں میں سے ایک ہے۔
احمد علوی ایک ایسا خوش فکر شاعر ہے جو اپنے اندازِ فکر کی لطافت سے ایسی انبساط آگیں کیفیت پیدا کر دیا ہے جو پڑھنے والوں کی توجہ کو مقناطیس کی مانند کھینچتی ہے۔اُن کے ہاں زبان و بیان کے ساتھ ساتھ اندزِ بیان میں بھی ندرت موجود ہے۔ وہ جس موضوعِ سخن کا انتخاب کرتے ہیں، اُس سے پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ وہ بڑی سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ ادبِ لطیفہ کی تخلیق میں مشغول ہے۔
اس کی نظموں اور غزلوں کے موضوعات میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مزاح گو شاعر اور سنجیدگی، یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی متین بلکہ سنگین موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اپنے اندزِ بیان سے اُسے رنگین بنادینا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کا بودا نہیں ؂
یہ اُس کی دین ہے جسے پروردگار دے
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے اندازِ بیان کی شعوری و غیر شعوری شرارتوں سے کاوشوں میں موجود فکاہی عنصر پڑھنے والوں پر چھاتہ بردار فوج کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور اُسے مطالعہ کے بعد بھی ہینڈز اپ کئے رکھتا ہے۔ذرا اس قطعہ میں دیکھئے کہ وہ کس معصومیت،سادگی اور روانی سے کیسی کیسی پھلجڑیاں چھوڑے جاتے ہیں۔
لندن کو اُڑ گئے وہ ہنی مون کے لئے
میں لڑکیوں کو شعر سنانے میں رہ گیا
وہ خوش نصیب نسل بڑھانے میں لگ گیا
میں بد نصیب بچے کھلانے میں رہ گیا
الفاظ میں سلاست اور روانی ایسی ہے کہ پڑھنے والا بہے چلا جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اندازِ بیان کی سادگی اس کی ریڈر شپ کے اسکوپ کو خاصی متنوع بنا دیتی ہے، جیسے بعض کتابوں پر لکھا ہوتا ہے ’’چھ سے ساٹھ سال کے بچوں کے لئے۔‘‘
ان کے ہاں مزاح خالصاً آمد کا شاخسانہ ہے ۔ ان کی باغ و بہار شخصیت کی برجستگی اورشستگی اس کے فنی محاسن کی ازخود آبیاری کرتی ہے۔تاہم یہ آمد بھی دردمندی اور آگہی کے مسلسل ریاض کا پیشِ خیمہ ہوتی ہے۔موجودہ دور کی علاقائی سیاست اور سماجی پس ِ منظرمزاح گو شاعر کو ہجو اور استہزا کی جانب راغب کرتا ہے لیکن احمد علوی اس باب میں بھی فکری توازن کو برقرار رکھتا ہے ۔ اگرچہ بسا اوقات اُن کا لہجہ خاصا تلخ اور کھردرا بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی اُن کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں۔ بادشاہ کی طرف ترت انگشت نمائی کر دیتا ہے کہ ’’بادشاہ سلامت، آپ ننگے ہیں۔‘‘
وہ بڑی بہادری اور جانفروشی سے معاشرے کے اُن منفی عناصر کو للکارتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔اِس موقع پر احمدؔ علوی اپنے قلم کو آتش فشاں کے بہتے ہوئے لاوے میں ڈبو لیتا ہے۔
سُرخ گجرات میں کیسر کی ہے رنگت یارو
کتنی مکروہ ہے ووٹوں کی سیاست یارو
یہ ہنر سیکھئے جاکر نریندر مودی سے
کس طرح ہوتی ہے لاشوں پہ حکومت یارو
(حکومت)
چھوڑ دے چھوڑ دے بڑ بولا پن
کچھ رکھا کر زبان پر قابو
کیا مصلّہ بچھاؤں تیرے لئے
ایک رکعت کا بھی نہیں ہے تو
(راج ٹھاکرے)
کچھ سمجھ ہے تو دھو کے میں مت آئے
یہ نہ ہندو کے ہیں نے مسلماں کے ہیں
باپ کو اپنے یہ باپ کہتے نہیں
یہ وفادار بس کرسی امّاں کے ہیں
(لیڈر)
یہ تو وہ احمد علوی ہے جو سماجی بھوتوں پر باآوازِ بلند’’لاحول‘‘ پڑھتا ہے لیکن ’’پن ڈرائیو‘‘میں ایک ایسا احمد علوی بھی دکھائی دیتا ہے جو بذلہ سنجی اور شوخ بیانی میں بھی فرد ہے۔باتوں باتوں میں ایسی دلچسپ بات کہہ جانے والا احمد علوی کہ سننے والا پھڑک اُٹھے۔
جب پڑوسن سے لڑ گئیں آنکھیں
کالا ایک اِک بال کر بیٹھے
پڑھے لکھے تو راکٹوں کے تجربے کیاکیئے
پہونچ گئے ہیں چاند پر لڈّن میاں جگاڑ سے
سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال
’’دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں‘‘
بوب کٹ زلفیں کٹا لی ہیں مرے محبوب نے
کیسے شانوں پر لکھوں زلفیں پریشاں ہو گئیں
دوسرے طنز و مزاح نگاروں کی طرح طنزیہ اندازِ بیان بھی احمد علوی کا ایک امتیازی وصف ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جس مزاح نگار میں بلٹ اِن (builtin)طنز کے ڈنک نہ ہوں، وہ یا توبے مقصدمزاح نگارہے یا پھر وہ اپنے شعری وجدان میں درست سمت پر سفر نہیں کر رہا ہے۔ایک شاعر اپنے زمانے کے تمام مسائل اوردکھوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اُس کی شاعری ہر قسم کی تلخانہ شیرینی سے ناکوں ناک ہوتی ہے، تاہم ایک اچھا طنز نگار رہی ہے جو کسی معاشرے کی ناہمواری پر اس نیت سے نشتر آزمائی کرتا ہے کہ اُس کے ناسوروں کا علاج کر سکے۔
احمد علوی کا شعری اسلوب بھی طنز کے’’ اندازِ احتجاج‘‘ سے مزیّن ہے۔ پن ڈرائیو میں وہ جا بجا ناوک فگن نظر آتا ہے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیکر اردو سر ہیں کالج میں
غالب گاف سے پڑھنے والے لیکچرر ہیں کالج میں

اس کی قسمت بدل نہیں سکتی
ہاتھ میں ٹھیکرا ہی رہتا ہے
چاہے بن جائے وہ کروڑی مل
بھک منگا بھک منگا ہی رہتا ہے

وہ کانوینٹ گرل ہے کافی پڑھی لکھی
روداد حسب و نسب کی اب انسٹینٹ بھیج
رشتہ بنے گا بینک کا بیلینس دیکھ کر
تصویر نہیں بینک کا اسٹیٹمینٹ بھیج

اور اب ذراامریکی صدر براک اوبامہ کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اُن کا یہ قطعہ ملاحظہ ہو:
سوچتا ہوں امن کا کیسے فرشتہ بن گیا
جس کا کلچر ہی ہمیشہ سے رہا بندوق کا
اَمن کا نوبل پرائیز مل گیا کیسے اُسے
قتل گردن پر ہے جس کی اَن گنت مخلوق کا
پن ڈرائیو میں جس صنفِ سخن کی مقدار سب سے زیادہ ہے وہ ہیں ان کے قطعات۔ اِس فن میں اِنہیں خصوصی تخصیص حاصل ہے۔قطعہ نگاری کا سب سے بڑا حُسن اس کی حقیقت نگاری ہے۔ شاعر کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر چار مصرعوں پر مشتمل ایک خیال کو یکجا کرتا ہے۔ احمد علوی کے قطعات میں شْگفتگی،دلکشی اور تازگی پائی جاتی ہے۔اُن کے بعض قطعات ایسے بھی ہیں جس میں اُن کے اندازِ بیان نے آفاقیت بھرکر رکھ دی ہے۔
’’پرانا شعر ‘‘کے عنوان سے ان کا ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے:
جتنے آل انڈیے ہیں ڈائس پر
سیڑھیاں شہرتوں کی چڑھتے ہیں
اِن کا استاد ہی نہیں کوئی
شعر سارے چرا کے پڑھتے ہیں
اِن کے قطعات طنز کی کاٹ سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ شگفتگی کی ایک دبیز تہہ بھی اس پر پڑی ہوئی ملتی ہے جس سے پڑھنے والے بہت حظ لیتے ہیں:
فرشتے بھی کلرکوں کی طرح ہوتے ہیں لا پروا
جو تخلیقِ خداوندی بھی سرکاری نکلتی ہے
یہاں پہچان ہو کیسے مونث اور مذکر کی
جسے نورا سمجھتے ہیں وہی ناری نکلتی ہی
پیروڈی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں جوابی نغمہ۔اس سے مراد ایسی ادبی طرز تخلیق ہے ،جس میں کسی نظم یا نثر کی اس طرح نقل کرکے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے کہ پیروڈی کا لفظی و بحری اہتمام جوں کا توں رہے، تھوڑے سے الفاظ کے رد و بدل یا تبدیلی سے مضمون میں ایسی مضحکہ خیزی پیدا کرنا ہے جس سے نفسِ مضمون کی ایسی کی تیسی ہو کر رہ جائے۔احمد علوی کو پیروڈی میں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔احمدؔ علوی کی پیروڈی میں یہی خاص بات ہے کہ وہ کسی فن پارے کی پیروڈی کرتے وقت پیروڈی کے جملہ لوازمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں جس سے اُن کی پیروڈی پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔پن ڈرائیو میں آپ کو بہت سی پیروڈیاں پڑھنے کو ملیں گی۔بھارت کا ایک مشہور فلمی گاناجب اِن کی فکرِ رساکے ہتھے چڑھا تو اس کا کیا حشر ہوا، ملاحظہ فرمائیے:
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
اچھّی طرح سکا ہوا شامی کباب ہو
۔۔۔
آنکھیں ہیں جیسے چہرے پہ قبریں کھدی ہوئی
زلفیں ہیں جیسے راہوں میں جھاڑی اگی ہوئی
جانِ بہار تم تو کباڑی کا خواب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
۔۔۔
ایسا نہیں کہ مرتے ہیں بس تم پہ نوجواں
آہیں تمہارے عشق میں بھرتے بڑے میاں
بدبو ہے جس میں شوز کی تم وہ جراب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
ایک اور فلمی گانے کی پیروڈی ملاحظہ ہو:
آپ کی نظروں نے سمجھا ووٹ کے قابل مجھے
ڈاکوؤں اور رہزنوں میں کردیا شامل مجھے
ماشاء اللہ آج تو تعلیم کا میں ہوں وزیر
کم سے کم اب تو نہ کہیئے اَن پڑھ و جاہل مجھے
توڑ دی ہیں میری ٹانگیں اس کے اباّ جان نے
اب بھی محبوبہ سمجھتی ہے مری کامل مجھے
دل بدلنے کے لیئے مجھ کو ملے ہیں دو کروڑ
دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے
کل میں ڈرتا تھاپلس سے اب ڈرے مجھ سے پلس
زندگی کی ساری خوشیاں ہو گئیں حاصل مجھے
پھر تو کر سکتا ہوں میں بھی چار سے چھے شادیاں
ساتھ میں بیوی کے مل جائیں اگر دو مِل مجھے

اِسی طرح ساحر لدھیانوی کی ایک معروف نظم کی پیروڈی بھی خاصے کی چیز ہے۔ اِس پیروڈی میں اُن کا جارحانہ رنگ ، بقول ایک پنجابی محاورے کے ’’بلیاں دے دے کر‘‘ جھلکیاں مار رہا ہے۔
یہ کھٹمل یہ مکھّی یہ مچھر کی دنیا
یہ لنگور بھالو یہ بندر کی دنیا
یہ کتّوں گدھوں اور خچر کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ عورت یہ مردوں یہ چھکّوں کی دنیا
نہتوں کی ہتھیار بندوں کی دنیا
یہ ڈاکو پولس اور غنڈوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ چوروں یہ لچّوں لفنگوں کی دنیا
یہ کمزوروں کی اور دبنگوں کی دنیا
تپِ دق کے بیمار چنگوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بش جونیئر اور اوباموں کی دنیا
یہ امریکیوں کے غلاموں کی دنیا
یہ ملاّ عمر اور اساموں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جنابوں کی عزت مآبوں کی دنیا
یہ اچھوں کی دنیا خرابوں کی دنیا
یہ چمچوں کو ملتے خطابوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بندوق کٹّوں طمنچوں کی دنیا
یہ فٹ بال کی اور کنچوں کی دنیا
خوشامد میں مشغول چمچوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہوائی جہازوں کی ریلوں کی دنیا
حوالات کی اور جیلوں کی دنیا
یہ ٹرکوں کی دنیا یہ ٹھیلوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
رئیسوں کی دنیا یہ کڑکوں کی دنیا
یہ بے کار آوارہ لڑکوں کی دنیا
ٹریفک سے بد حال سڑکوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
لطیفہ ایک چھوٹی سی حکایت کا نام ہے جس کے اثرات بہت مثبت ہوتے ہیں۔ بقول خواجہ عبدالغفور:
’’لطیفے کا یہ اعجاز ہے کہ روتوں کو ہنسا دے، مردہ دلوں کو زندہ دلی عطا کرے، قنوطیت اور یاسیت کو نابود کر دے، اعصابی تناؤ اور اضمحلال کو دور کر دے، یہ ایک شگوفہ ہوتا ہے لیکن عام فہم اور زود فہم۔ذرا سے میں موڈ بدل دے مزاج کو شگفتگی بخش دے۔‘‘
لطیفوں پر منظوم چھاپے مارنے کا بھی احمد علوی کا اپنا ہی انداز ہے۔ نہایت نپے تلے انداز میں لطیفوں کو یوں دبوچ لیتے ہیں کہ دیکھا کیجئے۔ذرا دیگ کی مخبری کے لئے چاول کا یہ دانہ تو ملاحظہ کیجئے:
یہ کہا میں نے پڑوسی سے مدد کر دیجئے
چند مہماں آگئے ہیں چارپائی چاہئے
چارپائی کے لئے قبلہ نے کر لی معذرت
اپنے گھر کی محترم نے یوں بیاں کی کیفیت
صرف دو ہی چار پائی ہیں مرے گھر میں جناب
رات بھر جن پر رہا کرتے ہیں چاروں محوخواب
ایک پر سوتا ہوں میں اور میرے ابّا محترم
دوسری پر میری بیوی اور مری امّی بہم
سن کے ان کی بات کو میں رہ گیا حیرت زدہ
بیش قیمت زندگی کیوں کر رہے ہو بے مزا
اس طرح ضائع جوانی کا نہ تم حصہ کرو
چارپائی دونہ دو پر ڈھنگ سے سویا کرو
آخر میں احمد علوی کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو جس میں قریب قریب ہر مزاح نگار کا الیہ بیان کیا گیا ہے۔
مذاق خود کا ہی خود کو اڑانا ہوتا ہے
اُداس چہروں کو مشکل ہنسانا ہوتا ہے
ہے پل صراط سے باریک راہِ طنزو مزاح
دیا ہواؤں کے رُخ پر جلانا ہوتا ہے

Advertisements