تم جیسا سمجھتے ہو میں ویسا تو نہیں ہوں
اْترا ہوں میں بس سے کوئی کبڑا تو نہیں ہوں

دیکھو نہ یونہی رحم بھری نظروں سے مجھ کو
شوہر ہوں میں سچ مچ کوئی گونگا تو نہیں ہوں

بیماری سے ہلتی ہے مسلسل میری گردن
میں تیری کسی بات کو سمجھا تو نہیں ہوں

آنکھیں ہیں کہیں اور تو نظریں ہیں کہیں اور
پالیسی ہے ایسی کوئی بھینگا تو نہیں ہوں

کیدو اْسے بننے کا یونہی شوق ہے ورنہ
میں ہیر کے چاچے سے اکڑتا تو نہیں ہوں

دنیا تو تماشہ ہے مگر سوچ رہا ہوں
دنیا کے لئے میں بھی تماشا تو نہیں ہوں

اِتنا بھی نہ سمجھو مجھے شرفائے زمانہ
پانامہ کی لیکوں سے میں رِستا تو نہیں ہوں

لڈو نہیں بٹتے تھے سرِ دشتِ کہ جاتا
مجنوں کی طرح اْلو کا پٹھا تو نہیں ہوں

رکھتے ہیں عبث لوگ ترنم کی توقع
شاعر ہوں ظفرؔ کوئی گویّا تو نہیں ہوں

Advertisements