(اس کھیل کے لئے کسی خاص سیٹ کی ضرورت نہیں۔ یہ سارا کھیل کسی گلی کے نکڑ پر بھی کھیلا جا سکتا ہے۔آپ چاہیں تو منظر نامے میں رنگ بھرنے کے لئے پس ِمنظر میں ایک عدد پوسٹ بکس آویزاں کر سکتے ہیں یا کسی مکان کی کھڑکی بنا سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہ بھی کیا جائے تو کھیل کا مجموعی تاثر ہرگز مجروح نہیں ہو گا۔ گلی کے منظر نامے کو حقیقی بنانے کے لئے چند ایک ایسے پیدل افراد کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جو گاہے بگاہے گلی میں مٹر گشت کریں یا وہاں سے گزر جائیں۔ پھیری والے کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے جو ہلکی پھلکی آواز لگاتا ہوا وہاں سے گزرے لیکن وہ مسلسل آوازیں لگانے سے گریز ہی کرے تو بہتر ہے کیونکہ اس سے گھیل کے کرداروں کے صوتی تاثرات پر بُرا اثر پڑنے کا احتمال ہے۔ )

بیٹی       (معمول کے مطابق بے فکری کے انداز میں گلی سے گزر رہی ہے۔ اُس نے سنہری ہار پہنا ہوا ہے)

ایلس       (یہ بھی گلی سے گزر رہی ہے لیکن بیٹی کے مخالف سمت سے آ رہی ہے، بیٹی سے قدرے قریب آ کر رُک جاتی ہے ۔ اُس کی نظر مسلسل بیٹی کے سنہری ہار پر گڑی ہوئی ہے)

بیٹی       (ایلس کو رُکتا دیکھ کر) کیوں جی، کیا کوئی کام ہے مجھ سے؟

ایلس       پتہ نہیں۔۔۔ بس مجھے یونہی تجسس سا ہو رہا ہے، کیا تم بتا سکتی ہو کہتمنے یہ ہار کہاں سے لیا ہے؟

بیٹی       کیوں؟ کیا یہ تمھارا ہے؟؟

ایلس       جی ہاں، مجھے کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے،  ہوبہوایسا ہی سونے کا ہار میں بھی پہنتی رہی ہوں۔

بیٹی       اچھا۔۔۔ اب کہاں ہے وہ؟

ایلس       کچھ پتہ نہیں۔۔۔بس کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ میں اسے ایک ڈیڑھ برس تک پہن نہیں پائی، موقع ہی نہیں ملا اِس کا۔۔۔بعد میں خاصا ڈھونڈا لیکن اُسے نہیں ملنا تھا سو نہ ملا۔وہ ہار میرا پسندیدہ ہار تھا۔۔۔یہی وجہ ہے کہ میں تم سے پوچھنے پر مجبور ہو گئی ہوں کہ یہ تم نے کہاں سے لیا ہے؟

بیٹی       اگر میں تمھیں نہ بتاؤں کہ میں نے یہ کہاں سے لیا ہے تو کیا کر لو گی؟

ایلس       (پس و پیش کے کے عالم میں) یہ تمھاری مرضی ہے ، اگر چاہو تو مجھے بتا دو کہ تمھیں یہ کہاں سے ملا ہے، میں تمھیں اس بات پر مجبور نہیں کر سکتی۔ویسے یہ بات کچھ اچھنبے کی ہے کہ آخر تم مجھے بتانے سے ہچکچا کیوں رہی ہو کہ تم نے یہ سونے کاہار کہاں سے لیا ہے۔۔۔ لیکن  اگر تم نہیں بتانا چاہ رہیں تو تمھاری مرضی۔۔۔اللہحافظ۔

بیٹی       ٹھہرو ۔۔۔میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ میں تمھیں نہیں بتاؤں گی، میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ اگر میں نہ بتانا چاہوں تو تم کیا کر لو گی۔

ایلس       اوہ ۔۔۔ تو کیا اس کا مطلب کہ تم مجھے بتادو گی؟

بیٹی       کہیں تم کو مجھ پرہارکی چوری کا  شبہ تو نہیں کر رہی ہو؟

ایلس       (جلدی سے) ارے نہیں ، بالکل نہیں۔۔۔میں بھلا ایسا کیسے سوچ سکتی ہوں۔۔۔مجھے تو بس اس بات کا تجسس ہو رہا ہے کہ تمھیں یہ نیکلس آخر کہاں سے ملا ہے اور بس۔

بیٹی       حقیقت تو یہی ہے کہ میں نے اس کو چرایا ہے، یہ تمھارا ہی ہار ہے۔۔۔غالباً۔

ایلس       میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کہوں، دماغ شل ہو کر رہ گیا ہے ۔۔۔ٹھیک ہے اگر یہ میرا ہے تو تم یہ فوراً مجھے لوٹا دو۔

بیٹی       کیا ۔۔۔تمھیں واپس لوٹا دوں۔۔۔پاگل ہو گئی ہو کیا؟ اِتنی مشکل سے تو چرایا تھا میں نے، اب میں تمھیں واپس کر دوں۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ یہ بھی خوب کہی۔

ایلس       لیکن تم کہہ چکی ہو کہ یہ میرا ہے۔

بیٹی       ٹھیک ہے، یہ تمھارا ہی ہو گا لیکن یہ مجھے بہت پسند ہے۔میرے پاس بھی پانچ چھ برس پہلے ایسا ہی ہار ہوا کرتا تھا لیکن پھر وہ گم گیا تھا۔جب میں نے بالکل ویسا ہی ہار تمھارے پاس دیکھا تو رہ نہ سکی اور اسے اُڑا لیا۔۔۔ اور یاد رکھو، میرااِسے تمھیں واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔ سمجھیں!

ایلس       لیکن یہ تمھارا نہیں ہے۔۔۔میں تمھیں اِس ہار کو چرانے کے جرم میں گرفتار بھی کروا سکتی ہوں۔۔۔ اس کی چوری کا اعتراف تو تم خود کر ہی چکی ہو۔

بیٹی       ارے یہ مجھ سے کیا حماقت سرزد ہو گئی۔۔۔ بھلا یہ راز

            اُگلنے کی کیا ضرورت تھی مجھے، تم کون سی

پولیس انسپکٹر لگی ہوئی ہو۔۔بہرحال،

 اگر میں یہ تمھیں واپس لوٹادوں تو کیا تم مجھے

 بتاؤ گی کہ تم نے اسے کہاں سے خریداتھا، تاکہ میں بھی اپنے لئے وہاں سے ایک ایسا ہی او رہار خرید سکوں۔

ایلس       اور اگر میں نہ بتاؤں تو ؟

بیٹی       تمھاری مرضی، لیکن یاد رکھو پھر میں تمھیں یہ ہار واپس بھی نہیں کروں گی۔

ایلس       تمھیں یہ  ہار ہر صورت لوٹانا پڑے گا، میں پولیس کو بلوا لوں گی۔

بیٹی       ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔لیکن پلیز پلیز مجھے بتادو کہ تم نے یہ کہاں سے خریدا تھا۔میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتی۔ میں جنون کی حد تک اس کی شیدائی ہوں۔یقین مانو، میں نے  اپنے نیکلس کو مدتوں اپنے گلے سے جدا نہیں کیا تھا۔ یہ کئی سالوں سے میری دل کی دھڑکنوں کاساتھی رہاہے۔

ایلس       تم نے اپنا  ہارکہاں گم کر دیا تھا؟

بیٹی       پتہ نہیں، میں نے اپنا ہار ایک بارشہر کے زنانہ ہاسٹل میں نہاتے ہوئے اُتارا تھا  اور وہیں بھول گئی تھی۔ بعد میں جب مجھے یاد آیا تو میں دوڑتی دوڑتی وہاں گئی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہار کو نہ ملنا تھا سو نہ ملا۔ پلیز مجھے بتادو کہ تم نے یہ ہار کہاں خریدا تھا، میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمھیں تمھارا ہار واپس کر دوں گی۔

ایلس       میں تمھیں نہیں بتا سکتی۔

بیٹی       لیکن کیوں؟

ایلس       ارے تو کیا تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو کہ میں نے اِسے چرایا ہے؟

بیٹی       نہیں، بالکل بھی نہیں۔

ایلس       تو پھر ۔۔۔ پھر۔۔۔ سچ پوچھتی ہو تو  مجھے یہ وہیں سے ملا تھا۔۔۔ وہیں گرلز ہاسٹل سے، جہاں تم اسے بھول گئیں

            تھیں ۔۔۔ یہ یقیناً تمھارا والاہی ہے، میں نے جب اِسے دیکھا تو اس سنہرے چمکدار ہار کا جادُو اس قدر مجھ پر چڑھ گیا کہ میں اِسے اُڑائے بغیر رہ نہ سکی۔ اگرچہ چاہیئے تو یہ تھا کہ میں اِسے پولیس کے حوالے کر دیتی تاکہ وہ اس کی مالکہ کو ڈھونڈ کر اس کی امانت اس کو لوٹا دیتی لیکن۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں، مجھ سے ایسا کیا ہی نہ گیا۔

بیٹی       اور تم نے اسے چُرا لیا؟

ایلس       مجھے افسوس ہے۔

بیٹی       لعنت ہو ۔۔۔ ہم گھوم پھر کر پھر اُسی بند گلی میں پہنچ گئے، اب بھی مجھے پتہ نہیں کہ اسے کہاں سے خرید پاؤں گی۔

ایلس       ارے نہیں، اب تمھیں نیا  ہار خریدنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، یہ تمھارا ہی تو ہے۔۔۔میں ہی اس سے محروم رہ جاؤں گی۔

بیٹی       ایں ۔۔۔ ارے ہاں، تم ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہو، یہ تو ہے ہی میرا ۔۔۔اچھا۔۔۔ تو پھر اللہ حافظ۔

ایلس       ٹھہرو ۔۔۔ کیا یہ ہار واقعی تمھارا ہے؟

بیٹی       ظاہر ہے۔

ایلس       تو کیا یہ تم نے خود خریدا تھا یا کسی نے تحفے میں دیا تھا۔

بیٹی       پتہ نہیں۔۔۔ اب تو میں بھول بھال گئی ہوں، پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اِس بات کو۔

ایلس       دیکھو مجھ سے اُڑنے کی کوشش مت کرو، تمھیں اچھی طرح یاد ہے۔۔۔مجھے بتاؤ کہ تم نے یہ ہارکہاں سے خریدا تھا۔

بیٹی       یقین مانو، مجھے بالکل بھی یاد نہیں۔۔۔ بتا رہی ہوں ناں کہ بہت عرصہ ہو گیا ہے اس بات کو۔

ایلس       مجھے تمھاری بات پربالکل بھی یقین نہیں۔۔۔دیکھو، جس طرح تمھیں یہ ہار پیارا ہے ویسے ہی مجھے بھی پیارا ہے۔۔۔۔پلیز مجھے بتادو کہ تم نے یہ ہار کہاں سے خریدا تھا۔

بیٹی       سوری۔۔۔۔مجھے یاد نہیں (جانے لگتی ہے)

ایلس       آہا، اب میں سمجھی۔۔۔۔ تم نے یہ کسی کاچرایا تھا،

 کیوں صحیح کہہ رہی ہوں ناں میں؟

بیٹی       میں کہہ رہی ہوں ناں کہ مجھے یاد نہیں۔۔۔ ٹھیک ہے اب مجھے تنگ نہ کرو، میں جا رہی ہوں۔۔۔

ایلس       ٹھیک ہے، شوق سے جاؤ، لیکن مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا ہے، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم نے خود یہ ہار کسی کا چرایا ہوا ہے۔۔۔ تم مان کیوں نہیں رہی ہو کہ تم نے یہ چوری کیا تھا۔

بیٹی       فضول باتیں نہ کرو، مجھے کیا ضرورت ہے کچھ ماننے یا نہ ماننے کی ۔۔۔ خدا حافظ  (جانے لگتی ہے)

اپریل      (گلی سے گزرتے گزرتے رُک جاتی ہے اور تیر کی طرح بیٹی کی طرف آتی ہے)  ارے، یہ ہار تم کو کہاں سے ملا ؟

            (بیٹی دوڑ لگا دیتی ہے)

(بلیک آؤٹ)

Advertisements