لگتی ہے یوں تو اِن دنوں خنجر کی دھار چپ
لیکن کسی کے مان کی ہے پردہ دار چپ

یہ تو ہماری روح کی خود رو سی فصل ہے
کب دیکھتی ہے رنگِ خزاں و بہار چپ

لب بستگی اور آپ کی محفل میں، حشر ہے
پر لے کے آ گیا ہوں کسی سے اُدھار چپ

کتنے ہی حادثات کی روداد سا بنا
کب سے ہے کوئی صورتِ سنگِ مزار چپ

اک آگہی کا ناگ تھا، ڈستا چلا گیا
خوش فہمیاں نہ دے سکی بے اعتبار چپ

چپ رہنا جس مقام پہ جرمِ ضمیر ہو
رکھے وہاں پہ کیسے کوئی برقرار چپ

کب سے میں آزمائشِ قلب و نظر میں ہوں
چبھتی ہے میرے دل کو تری خار خار چپ

دل تو ہمکتا رہ گیا اُس کی نگاہ سے
لیکن لبوں پہ جم گئی اک زرنگار چپ

کشکولِ جاں میں ڈال دے قربت کی سرخوشی
اے دوست اپنی ذات سےکچھ تو اُتار چپ

گم ہوں اکیلگی کے عجب شور میں ظفر
پچھلے کئی دنوں سے بنی آبشار چپ

Advertisements