بلا لو سب کو بلا لو کہ آیو رے ساون
جمالو رنگ جمالو کہ آیو رے ساون

اُٹھو کہ پھر سے ہے موسم تماشہ کرنے کا
چلو کہ نام کمالو کہ آیو رے ساون

سیاستوں کے پنپنے کا ہے یہی موسم
بنا ہے بخت اپالو کہ آیو رے ساون

تمام شہر ہے ڈوبا ہوا تو میں کیا کروں
کرو نہ تنگ سوالو کہ آیو رے ساون

بلاؤ جتنے بھی ہیں میڈیا کے جادوگر
لفافے خوب بنا لو کہ آیو رے ساون

مری سپیچ کو کچھ اور بھی عوامی کرو
نئے مکالمے ڈالو کہ آیو رے ساون

وزیرِ اعلیٰ نہیں، میں ہوں خادمِ اعلیٰ
یہ کہہ کے سب کو پٹا لو کہ آیو رے ساون

جو مجھ میں گھسنے کی ہمت نہ کر سکی ہیں کبھی
اُن عظمتوں کو اجالو کہ آیو رے ساون

میں جو بھی بات کروں جوششِ خطابت میں
تم اُس پہ بولو نہ چالو کہ آیو رے ساون

مجھے بھی پانی میں گھس گھس کے پوز دینے ہیں
رَبر کے بوٹ نکالو کہ آیو رے ساون

Advertisements