بچوں کو کوئی کر نہ سکا زینہار چپ
آنکھیں دکھا دکھا کر کہا بار بار چپ!
 
کیسے گلی میں سب پر کھلے شان آپ کی
گیراج میں کھڑی ہو اگر کوئی کار چپ
 
یاروں میں جس کو چپ بھی کرانا محال تھا
سسرال میں ہے صورتِ سنگِ مزار چپ
 
خاموش ووٹروں کو دلیلیں نہ بھا سکیں
نعرہ زنوں نے کی ہے ہمیشہ شکار چپ
 
اک گھر میں ہو گیا جو بپا خانگی غدر
بچھ سی گئی محلے میں بے اختیار چپ
 
وہ جب بھی لب کشا ہوئے ماری ہیں بونگیاں
اُن کے لئے ہے رحمتِ پروردگار چُپ
 
کن شورشوں کے فیض سے ہم کو عطا ہوئی
سنسر کی چوسنی کی طرح پائیدار چپ
 
جب صور پھونکا جائے گا تو ہڑبڑائیں گے
ورنہ ہے صدرِ مملکت کی شاہکار چپ
 
ماتھے پہ ”دُر فٹے منہ“ نوشتہ ہے سربسر
بننے لگی کسی کی عجب اشتہار چپ
 
محفل میں آج منہ تو کسی کا ہے” زپ شدہ“
یہ اور بات، ایک جگت کی ہے مار چپ
 
پنگا لیا تو سمجھو وہیں خاتمہ ہوا
گویا ہے بیگمات کی بجلی کی تار چپ
 
کیوں حزبِ اختلاف شرافت سے بیٹھ جائے
مئے نہ ملے تورہتے نہیں باد خوار چپ
 
اب چورشور سب سے زیادہ کرے ظفر
دنیا میں اب رہی ہے کہاں سازگار چپ
Advertisements