کھاتا ہی رہا شوق سے میں پان وغیرہ
اور پان مرے کھا گئے دندان وغیرہ

کھینچیں نہ اگر اِن کو پکڑ کر تیرے سسرے
کس کام کے آخر یہ ترے کان وغیرہ

جب شامتِ اعمال نے گچی میری پکڑی
میرے تو اُڑا لے گئی اوسان وغیرہ

لازم ہے کہ اعمالِ کرپشن میں ہوں یکساں
جمہوری حکومت کے نگہبان وغیرہ

تعمیرِ وطن کے لئے اربابِ وطن کو
لیڈر نہیں درکار ہیں ترکھان وغیرہ

ہے خدمتِ قومی کے لئے شرطِ ضروری
مل جائے وزارت کا قلمدان وغیرہ

شرمندہ ہیں ہم ایرے و غیرے یہاں جی کے
پائندہ ہیں پردھان شری مان وغیرہ

کس نیکی کے چکر میں سرِ کوئے نگاراں
بانٹ آتے ہیں عشاق دل و جان وغیرہ

یوں پھیلتا جاتا ہے کوئی فضلِ خدا سے
تنگ پڑنے لگے کمرہ و دالان وغیرہ

اُس شخص کی کج فہمی کے انداز تو دیکھو
لیڈر کو سمجھتا ہے جو انسان وغیرہ

اُس شوخ کی خاطر میں گلے کس کے پڑا تھا
دامن سے لگا آ کے گریبان وغیرہ

اسپیڈ ذرا کم ہی رہے جوشِ جنوں کی
ہو جاتا ہے اُس کوچے میں چالان وغیرہ

اشعار سنانے کا کوئی رسک کیا لیتا
ہم نے بھی اُٹھا رکھا تھا دیوان وغیرہ

Advertisements