میں پر سمیٹے ہوئے کیوں کسی شجر میں رہا
اُڑان بھرنے کا سودا جو بال و پر میں رہا

رہا نہ وقت کےعفریت سے کبھی خائف
”رہا تو سوئی ہوئی خاک کے خطر میں رہا“

گہر سا خواب تھا نہ جانے کن زمانوں کا
کھلی نگاہوں کی اِن سیپیوں کے گھر میں رہا

میں اپنے ساحل ہستی کے ہاتھ کیا آتا
تمام عمر کسی اور ہی بھنور میں رہا

تو پھر تہی ہے کیوں دامن مرا ستاروں سے
اگرچہ کہنے کو زندہ تو عمر بھر میں رہا

غمِ حیات کی باٹیں بھی پڑ گئیں ہلکی
عجیب حشر کسی حُسنِ فتنہ گر میں رہا

میں زندگی کی ہمہ رنگیوں میں کھویا نہیں
ترا ہی غم مرے سامانِ مختصر میں رہا

جنونِ شوق ثمر پائے گا ، بشرطِ حیات
یہیں سے رستہ نکل آئے گا، اگر میں رہا

یہ اور بات شبِ تیرہ کا حوالہ ہوں
میں حرفِ نور تھا دیباچہء سحر میں رہا

جہاں پہ اُس نے مجھے خاک میں ملایا ہے
یہی تھا شہر جہاں ایک کوزہ گرمیں رہا

گریزپائیءمنزل کی شدتوں کوتو دیکھ!
نہ پوچھ پہلے میں کیوں اس کی رہگزر میں رہا

نویلے دن کی فسوں کاریوں سے خیرہ سہی
خمارِ شب بھی مگر دیدہء سحر میں رہا

غمِ حیات ٹپکتا رہا قلم سے ظفر
مگر یہ غم نہیں جاتا کہ بے ہنر میں رہا

Advertisements