پئے سخن شہِ ہر دو جہاں سے نسبت ہے
مرے بیاں کو بھی حُسنِ بیاں سے نسبت ہے

میں آ گیا رہِ سرکار کے افادے میں
اگرچہ مجھ کو بھی عہدِ ذیاں سے نسبت ہے

میں اُمتی بھی ہوں اُس کا جو ہے حبیبِ خدا
زمیں کا ذرّہ ہوں اورآسماں سے نسبت ہے

مسافرت نہیں ٹھہرے ہوئے زمانوں کی
کہ اُن کے عشق کو آبِ رواں سے نسبت ہے

متاعِ جاں تو ہے ناموسِ دین کا صدقہ
میں ایک تیر ہوں مجھ کو کماں سے نسبت ہے

کوئی بھی خوفِ سرِ ظلمتِ بسیط نہیں
کہ مجھ کو منزلِ روشن نشاں سے نسبت ہے

میں جب سے آیا ہوں اُس کے بتائے رستے پر
مرے سفر کو کسی کہکشاں سے نسبت ہے

Advertisements