بجا کہ تیرِ ہدف تیرا ہر قیانہ ہے
یہ اور بات کہ دھوکہ ہمیشہ کھانا ہے

پڑی ہے عین لڑکپن میں جھوٹ کی عادت
”مرا مزاج لڑکپن سے لیڈرانہ ہے“

یہ لفظ لفظ نہیں ہیں، لفافہ سازی ہے
بہت سے لوگوں کا بزنس ہی کالمانہ ہے

شکایتیں تو عدو سے ہیں تلخ تلخ بہت
میں کیا کروں مرا انداز موءدبانہ ہے

دوبئی گیا ہے بھلا کس کی توند سازی کو
وہی ہے ہے پنچھی وہی اُس کا آب و دانہ ہے

ہمارا اُن سے تعلق بہت قریبی ہے
ہمارا اُن سے تعلق کہ حاسدانہ ہے

گلے لگے تو چٹختی ہیں پسلیاں ساری
کہ التفات بھی ظالم کا بیہمانہ ہے

اگرچہ بات ہمیشہ وہ کرتے ہیں سچی
مگر جو اُن کا بیاں ہے وہ سوقیانہ ہے

یہ ہر برس نئے ماڈل کا طفل رکھتے ہیں
جنابِ شیخ کا گھر ہے یا کارخانہ ہے

یہ خستہ عمر بزرگوں کا مقتدر ہونا
یوں لگتا ہے کہ جنازہ سا غائبانہ ہے

تری دلیل ہے ایسی کہ دل کو جا کے لگی
اگرچہ عقل کی جانب سے پیدلانہ ہے

Advertisements