نعت جب لکھنے لگا ،جذبوں کوسچائی ملی
لفظ لو دینے لگے، سوچوں کو بینائی ملی

ذکر اُن کا جب کیا،یک گونہ پایا ہے سکوں
نام اُن کا جب لیا ، دل کو توانائی ملی

جس قدر عاصی تھے اُن کے سایہء رحمت میں ہیں
جتنے تھے بیمارِ غم، سب کو مسیحائی ملی

اُن کے رستے پر چلے لوگوں نے پائی ہے فلاح
اُن کی خوشبو میں بسے پھولوں کو رعنائی ملی

عظمتوں کے باب میں جس طرح یکتا ہے خدا
ویسے مخلوقات میں اُن کو بھی یکتائی ملی

وقت کی ظلمت میں اُن کا دامنِ روشن ملا
شکر ہے اس طور منزل سے شناسائی ملی

حضرتِ حسان کے ورثے سے حصہ پا لیا
نعت کی خاطر متاعِ خامہ فرسائی ملی

نعت کی مجھ پر وحی پھر سے اُترتی ہے ظفر
عشق کے جذبوں کو اُس در سے پذیرائی ملی

Advertisements