تری تیاریوں کا شوق مجھ کو مار جاتا ہے
ترے نخرے نہیں مکتے، مرا اتوار جاتا ہے

وہ اِتنے شوق سے تو نان بھی لینے نہیں جاتا
کہ جتنے شوق سے لالا پئے نسوار جاتا ہے

ٹریننگ لی ہوئی ہے تونے آخر کس ”sniper“ سے
تری نظروں کا ناوک تو جگر کے پار جاتا ہے

محبت کس طرح پنپے، کروں میں کس طرح پیچھا
میں دو ٹانگوں پہ ہوتا ہوں، وہ لے کے کار جاتا ہے

یوں بڑھکیں مارتا ہے اپنے قد سے بھی بڑی لیکن
”کسوٹی جب بھی لگتی ہے تو انساں ہار جاتا ہے“

اسے ہے خوش گمانی کہ شجر پر نوٹ لگتے ہیں
بڑے ہی شوق سے کوئی سمندر پار جاتا ہے

مزے سے بیٹھ کر گھر میں جگالی کر رہا ہے وہ
کوئی اُس کو بھی بتلائے ترا بیمار جاتا ہے

زمانہ جو ہمیں فٹبال سمجھے، ٹھوکریں مارے
اُسی کو داڑھ میں دابے بُتِ عیّار جاتا ہے

اُسے مردے بھی سُن لیں تو اٹینشن ہو کے رہ جائیں
ظفر کوئی الاپے رات کو ملہار جاتا ہے

Advertisements