لئے بچوں کا کوئی لشکرِ جرار جاتا ہے
گلی سے بارہا اِک قافلہ سالار جاتا ہے

جو میرا پیر ہے وہ پیر ہے سارے ہی پیروں کا
یہ ایسا پیر ہے جس کے لئے اتوار جاتا ہے

کسی سے دم کرالینا کہ سوئے محفلِ شعری
بغل میں میں لے کے کوئی دفترِ اشعار جاتا ہے

تری منشا ہے سو مجبور ہے بھاری بدن عاشق
نہیں ہے تاب اُٹھنے کی مگر ناچار جاتا ہے

یوں اُس کو رازداری فوبیا تو ہے مگر اب کے
کسی اپنی ضرورت سے پسِ دیوار جاتا ہے

تمھارے تو رگ و پے میں بسی ہے سنسنی خیزی
تمھارے گھر میں شائد شام کا اخبار جاتا ہے

ترے مانجھی کو فرقت کے چمونے لڑ رہے ہوں گے
کبھی وہ آر آتا ہے کبھی وہ پار جاتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے لگی ہے گوند کرسی میں
سہولت سے جو آتا ہے بصد دشوار جاتا ہے

ظفر تشریف کا تھیلا تھا بھاری اس قدر توبہ
بنام پینٹ وہ پہنے ہوئے شلوار جاتا ہے

Advertisements