"ست بھرائی” سے جس کو الفت ہو
ڈھول اُس کے گلے کا شامت ہو

عشق کو عقد کی سزا جو ملے
تو یہ پھر قیدِ با مشقت ہو

کون سچائیوں کو چاٹا کرے
جھوٹ کا نام جب سیاست ہو

عشق میں ہار بھی قبول اُسے
جو گلے کا ہو، بیش قیمت ہو

کیوں لگا لائیں سب کو پیچھے ہم
کس لئے عشق کی حماقت ہو

ڈھیٹ پن کے بھی فائدے ہوں گے
کچھ تو رسوائیوں پہ خفت ہو

دوسروں پر وہی ہنسے جس میں
خو پہ ہنسنے کی استطاعت ہو

جب بھی میرا رقیب پکڑا جائے
جرم ناقابلِ ضمانت ہو

ایک سو بیسویں سے بھی یہ کہا
"تم مری آخری محبت ہو”

کیوں مجھے یاد آ رہے ہو بہت
میرے امراض کی وضاحت ہو

مسخرا سا دکھا رہا ہے مجھے
آئینہ قابلِ مذمت ہو

ووٹ تو شیر کو دیا تھا ظفر
کیوں گدھوں کی یہاں حکومت ہو

Advertisements