شکر ہے اسکینڈلوں کے درمیاں ہے زندگی
خادمانِ قوم کے شایانِ شاں ہے ہے زندگی

چن چڑھایا ہی نہیں میری جوانی نے ابھی
تیر ہے لیکن ابھی تک بے کماں ہے زندگی

بیویوں کو دیکھئے تو تیز رو اور بے سٹاپ
شوہروں کو دیکھئے تو بے زباں ہے زندگی

اوّلیں فکرِ پلاٹ اور پھر غمِ تعمیر ہے
ہم غریبوں کے لئے خوابِ مکاں ہے زندگی

سندھ کا جیسے گورنر ہے میں ہوں ویسا ہی فٹ
میری قسمت میں مگرویسی کہاں ہے زندگی

اب سمجھدانی مری امریکنوں سی ہو گئی
میں کبوتر جانتا تھا اور "کاں” ہے زندگی

ہائے یہ سوزِ محبت اُف یہ دھندے دہر کے
میں ہوں پنڈی میں اگرچہ لودھراں ہے زندگی

عقد میں متھے لگا بیٹھے ہیں بی بی بیگماں
اور اب لگتا ہے کہ "مس کہکشاں” ہے زندگی

ہم بھی گزرے ہیں وہاں سے ایک دن چھٹی کے وقت
گرلز کالج جائیے تو بیکراں ہے زندگی

خیر ہے جو حُسن والے لفٹ دیتے ہی نہیں
"برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی”

نقل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا ظفر
ممتحن سر پر کھڑا ہے، امتحاں ہے زندگی

Advertisements