بالوں پہ پھر خصاب لگانا پڑا ہمیں
تیرے لئے یُوں سینگ کٹانا پڑا ہمیں

زیبا گئی تو سلمیٰ سے لظریں مری ملیں
"سورج بجھا تو چاند جلانا پڑا ہمیں”

ہم ایسی چوریوں کو سمجھتے ہیں نیک کام
دل تھا تمھارا بسکہ چرانا پڑا ہمیں

سُن کر کسی کے حسن پہ اشعار ایک دن
بیساختہ سا طعنہ زنانہ پڑا ہمیں

ہوتی نہیں ہے رام یہ مخلوق مفت میں
سو افسروں کو مسکہ لگانا پڑا ہمیں

رکھنا پڑا تمھارے بھی ویروں سے رابطہ
لوہے کے اِن چنوں کو چبانا پڑا ہمیں

تعریف کرنی پڑ گئی زوجہ کی آخرش
اپنے گلے کا ڈھول بجانا پڑا مجھے

سسرالی سانپوں سے تجھے لے آئے چھین کر
لیکن بہت یہ مہنگا خزانہ پڑا ہمیں

وہ کوئی اپنی پھو پھو کی بیٹی نہیں ظفر
کیوں ہیلری کا نعرہ لگانا پڑا ہمیں

Advertisements