نعرہء حق کی صدا سسروں کو منظور نہیں
اور سسرال میں جڑ دوں تو قضا دور نہیں

حکمِ زوجہ ہے کہ جب حور کے پہلو میں ہے تو
غیر محرم ہے جو کلمونہی اُسے گھور نہیں

کوئی خاتون جو میک اپ کا نہ برقعہ پہنے
لوگ کہتے ہیں کہ چہرے پہ ذرا نور نہیں

چہچہا سکتے نہیں جا کے حسیناؤں میں
پھر بھی دعویٰ ہے کہ شوہر ہیں وہ محصور نہیں

کیوں ترا ویر جماتا ہے تڑی آ آ کر
یہ مرا پنڈی ہے کوئی ترا پسرور نہیں

کوئے لیلیٰ میں یوں مجنوں کا تماشہ نہ بنا
یہ کسی شاخ سے لٹکا ہوا لنگور نہیں

ووٹ دیتے ہوئے میں تھوڑے تلک جاتا ہوں
"میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں”

رم خوردی کا بھی طعنہ ہے مرے سر لیکن
میرے حصے میں کوئی آتشِ مخمور نہیں

ایسے ویسے ہی سدا کام کیوں کرتے ہیں ظفر
ایسا ویسا کسی لیڈر کا تو منشور نہیں

Advertisements