مرے وطن کے نصیبوں سا حال تیرا رہا
ہمیشہ قرض میں ہی بال بال تیرا رہا

ملا نہ ڈھیٹ کہیں بھی کوئی ترے جیسا
"کہ ذکر آیا کسی کا ، خیال تیرا رہا”

یوں شوں شڑپ کیا حالات کے بلونے نے
زوال میرا رہا نہ کمال تیرا رہا

ہمیشہ دل میں رہا تیری الفتوں کا بھوت
تمام عمر مرے جل میں جال تیرا رہا

بھری ہی رہتی ہیں سچائیوں میں مرچیں سی
کسی کی بات پہ منہ لال لال تیرا رہا

سماجِ تنگ نظر نے بڑھائی تھی دوری
کہ پنڈی میرا رہا، خانیوال تیرا رہا

ترا تو کتا بھی بھونکا ہے مجھ پہ رہ رہ کر
اگرچہ ویر بھی جاں کا وبال تیرا رہا

سوالِ وصل پہ ٹھینگا دکھا دیا اُس نے
جواب جس کا نہ تھا وہ سوال تیرا رہا

میں تین مرلے کے پیلس میں مثلِ شاہ ہوں ظفر
غریب خانہ جہاں دو کنال تیرا رہا

Advertisements