اُس کے کوچے میں دندنایا جا سکتا ہے
آیا جا سکتا ہے جایا جا سکتا ہے

جو ایوانوں میں ہوتا ہے، دیکھ کے اُن کو
کانوں کو بھی ہاتھ لگایا جا سکتا ہے

انساں اپنی آئی پر بھی آ سکتے ہیں
شیطانوں کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے

لیڈر کی دُم ٹیڑھی ہے تو ٹیڑھی رہے گی
یوں تو ڈنگر کو بھی سدھایا جا سکتا ہے

نارنجی ہے ٹرین یا کالی۔۔۔۔۔ اوکے ہے
بندہ اس پر اگر ملایا جا سکتا ہے

یہ جو دل کی آتش ہے ، کچھ کام کی بھی ہے؟
اس سے سگریٹ تو سلگایا جا سکتا ہے؟؟

پکڑے جاؤ تو پھر شور مچادو خود بھی
چور و مور کا فرق مٹایا جا سکتا ہے

وقت پڑے تو الٹی جمپ لگا لیتا ہے
لیڈر بندر بھی کہلایا جا سکتا ہے

اپنی تدبیروں پر خوب بجا لو بغلیں
لیکن کوئی پلٹ کے کایا جا سکتا ہے

دیکھ لے آدھی رات کو پکے راگ سنا کر
تھانے خود تیرا ماں جایا جا سکتا ہے

حُسن کے جھرمٹ میں ہو تو ٹلنا ناممکن
ہاں تائی آئے تو تایا جا سکتا ہے

Advertisements