عقد کا وقوعہ تھا ایک خواب کی طرح
زندگی میں ڈال دی اضطراب کی طرح

آگے سے گزر سکیں کیا چرا کے ہم نظر
وہ نظر ہے شعبہء احتساب کی طرح

جانتا ہے وہ ہمیں اک بٹیر دوستو
جس کا بھائی جان ہے اک عقاب کی طرح

اپنی سیٹ پر کھڑا کر دیا ہے پوت کو
اور سمجھتا ہے اسے انقلاب کی طرح

ایسے ڈیم فول پر چپ کا ڈیم کیوں نہیں
وہ جو بہتا جا رہا ہے چناب کی طرح

میرے پہلو میں تجھے دیکھتے ہی جل گیا
دل کسی کا ہو گیا پھر کباب کی طرح

عشق خبط بھر گیا، عقد کونڈا کر گیا
اِک سوال کی طرح ، اک جواب کی طرح

بدنصیبی سے مری، وہ بلیک بیلٹ تھی
جو نزاکتوں میں تھی کچھ گلاب کی طرح

میتھ کی کتاب ہے ازدواجی زندگی
عشق تو ہے سرسری، انتساب کی طرح

ووٹروں میں لیڈروں میں ہے فرق تو یہی
یہ ہیں گائے کی طرح وہ قصاب کی طرح

مفتیوں سے پوچھئے حد لگے گی یا نہیں
پی رہے ہیں چائے بھی ہم شراب کی طرح

وہ جو گھر جوائی کے عہدے پرازل سے ہے
اُس کی فرصتیں بھی ہیں میری جاب کی طرح

Advertisements