اُس کی یادوں میں دفنایا جا سکتا ہے
خود کو ایک مزار بنایا جا سکتا ہے

دل میں کسی کا پیار بسا رکھا ہے ہم نے
رحل میں جوں قران سجایا جا سکتا ہے

تیرہ شبی کی بیخ کنی ناممکن بھی ہو
کم از کم اک دیا جلایا جا سکتا ہے

لوگ اگر تسخیر نہ ہو پائیں تو کیا ہے
قلعے پہ جھنڈا تو لہرایا جا سکتا ہے

جو بیدار ہیں اُن کو ہوش میں لائیں کیسے؟
جو سوتے ہیں اُنہیں جگایا جا سکتا ہے

دل کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے اکثر
اپنے آپ کو بھی الجھایا جا سکتا ہے

مشتِ خاک سہی پر اپنے حق کی خاطر
طوفانوں سے بھی ٹکرایا جا سکتا ہے

آنکلا ہے جنگل کو اک بھوت ہوس کا
لے کر ہر اک پیڑ کا سایہ جا سکتا ہے

دل کی بے رنگی کا افسانہ کہہ سُن کر
محفل میں اک رنگ جمایا جا سکتا ہے

Advertisements