چلنا ہے رہرؤں نے سو چلتے ہوئے بھی دیکھ
کارِ سگاں ہے بھونکنا سو بھونکتے بھی دیکھ

دنیا کا منہ فٹے منہ بنا ہے تو کس لئے
کیا کرتے پھر رہے ہیں یہاں منچلے بھی دیکھ

اوروں کا تجھ پہ ہنسنا ڈیو تو نہیں ہوا
اوروں پہ ہنسنے والے ذرا آئینے تو دیکھ

لوٹیں مشاعرے سے جو شب تو پولیس کو
رستے میں روک روک کے منہ سونگھتے بھی دیکھ

بیوی بُری لگے تو پڑوسن سے کر حذر
پرہیز ہے شکر سے تو مت گلگلے بھی دیکھ

اُس فیل تن میں کوئی لطیفہ جو ڈال دے
پھر اُس بدن میں زلزلے سے دوڑتے بھی دیکھ

کچھ بولنے سے پہلے کبھی سوچتے نہیں
لیکن مآلِ کار سدا سوچتے بھی دیکھ

مانا کہ تاڑنے کو بہت کچھ ہے آس پاس
چلتا ہے روڈ پر تو ذرا سامنے بھی دیکھ

تبدیل ہو کے رہ گئی تہذیب عشق کی
اب کے بنامِ عاشقاں چکنے گھڑے بھی دیکھ

جن گلیوں میں وہ شوخ ہے بنیان میں ظفر
تہمد پہن کے مجھ کو وہاں گھومتے بھی دیکھ

Advertisements